خالی صوفہ

0

از: محمد انس رضا قادری بندیالوی


2015 کی بات ہے، جب میں تحصیل علم کے لیے امین علوم بندیالوی حضرت علامہ ابو الفیض مفتی محمد فضل الرحمن بندیالوی دام ظلہ کی بارگاہ میں پروآ تحصیل ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا، صبح کے تقریباً 7 بج رہے تھے، بہر حال استاد صاحب جامعہ میں تشریف لارہے تھے، دست بوسی کا شرف ملا، پوچھا کہاں سے آئے ہیں عرض کی کراچی سے، فرمایا، ما شاء اللہ، پھر لائبریری میں چلے گئے، میں ایک کمرے میں آرام کرنے چلا گیا۔

12بجے استاد صاحب برآمدے میں چار پائی پر تشریف فرما ہوئے، سامنے دو چار پائی اور لگائی جاتیں، میری پہلی ملاقات تھی، حضرت کے مزاج سے کوئی شناسائی نہیں تھی، نہ ہی وہاں کے رہن سہن سے آگاہی، حاضر ہوا، دست بوسی کی اور میں نیچے زمین پر مٹی میں بیٹھ گیا کہ راقم کی یہی اوقات، حضرت نے کمال شفقت سے فرمایا “جیویں اتھے بہو”(پیارے اوپر بیٹھو) مجھ میں اتنی ہمت تو نہیں، لیکن آپ نے تین سے چار بار ارشاد فرمایا تو پھر اوپر چار پائی پر بیٹھ گیا،(چونکہ پہلی ملاقات تھی اس لیے یہ بات ذہن میں نقش ہوگئی) پھر جب کبھی بعد عصر استاد صاحب کی بارگاہ میں حاضری کا ارادہ ہوتا تو دست بوسی کے بعد خود اشارہ فرماتے اوپر چار پائی پر بیٹھنے کا، آپ ہر طالب علم بلکہ ہر عامی، دیہاتی کے ساتھ بھی اسی طرح پیش آتے ہیں،،،
بارہا کئی بزرگوں کی صحبت میں حاضری کا شرف ملا،
● اولاً تو وہ بزرگ عوام کی طرح خود بھی فرشی نشست پر تشریف فرما ہوتے،
● اور اگر اوپر کسی صوفے اور کرسی پر تشریف فرما ہوتے تو حاضر ہونے والے کو بھی اوپر ہی بیٹھنے کا ارشاد فرماتے،
● اگر اپنے پاس جگہ پاتے وہیں بٹھاتے ورنہ آنے والے کے لیے اوپر بیٹھنے کا اہتمام فرماتے،
● اگر عرشی نشست پر جگہ خالی ہو تو کسی بزرگ کو نہیں دیکھا کہ وہ کسی کو بھی فرشی نسشت پر بیٹھنے دیتے ہوں، ورنہ خود فرشی نشست پر تشریف لے آئیں،
● یہ بھی دیکھا کہ کوئی بزرگ فرشی نشست پر نہ بیٹھ سکتے ہوں تو حاضرین سے معذرت کرتے کہ میں معذور ہوں اس لیے اوپر بیٹھا ہوں میرے عذر کو قبول کیجیے۔
یاد رہے!!! ہمارے مشائخ ، صوفیہ، علماء کا یہ عمل در اصل تعلیمات نبویہ کا حصہ ہے،،،
ذیل میں چند روایات ملاحظہ ہوں:
● حضرت واثلہ بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور (ﷺ)مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس کے لیے حضور(ﷺ)اپنی جگہ سے سرک گئے اس نے عرض کیا، یارسول اﷲ!(ﷺ)جگہ کشادہ موجود ہے، (حضور ﷺکو سرکنے اور تکلیف فرمانے کی ضرورت نہیں)۔ ارشاد فرمایا:”مسلم کا یہ حق ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے، اس کے لیے سرک جائے۔” (شعب الإیمان:8933)
● حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:”جب کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور اس کی خوشنودی کے لیے وہ لوگ جگہ میں وسعت کردیں، تو اللہ عزوجل پر حق ہے کہ ان کو راضی کرے۔” (کنزالعمال: 25370)
● حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے،رسولِ کریمﷺنے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ (تمہیں چاہئے کہ )دوسروں کے لئے جگہ کشادہ اور وسیع کر دو۔( بخاری شریف،:6270)
● حضرت انس رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ اپنے صحابہ کے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ آئے اور سلام کر کے کھڑے ہوگئے ۔ حضور منتظر رہے کہ دیکھیں کون ان کےلیے جگہ بناتا ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ آپﷺ کی دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ اپنی جگہ سے اْٹھ گئے اور فرمایا ‘ اے ابوالحسن ! یہاں تشریف لے آئیے ۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ حضور ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے درمیان بیٹھ گئے ۔ اس پر نبی کریمﷺ کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ نے فرمایا ’’اہل فضل کی فضلیت کو صاحب فضل ہی جانتا ہے ۔‘‘ (الصواعق المحرقہ صفحہ ۲۶۹)
● ایک روز چند بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی ،اُنہوں نے حضورِ اقدس ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا۔ حضورپُر نورﷺ نے جواب دیا، پھر اُنہوں نے حاضرین کو سلام کیا تواُنہوں نے جواب دیا، پھروہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ اُن کیلئے مجلس شریف میں جگہ بنائی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ،سرکارِ دو عالمﷺ کو یہ چیز گراں گزری توآپ نے اپنے قریب والوں کو اُٹھا کر اُن کیلئے جگہ بنا دی، اُٹھنے والوں کو اُٹھنا شاق ہوا تو اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ
ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت میں جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب تمہیں اپنی جگہ سے کھڑے ہونے کاکہا جائے تاکہ جگہ کشادہ ہو جائے تو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تعالیٰ( اپنی اور اپنے حبیب ﷺکی اطاعت کے باعث )تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔(تفسیر خازن، سورۃ المجادلۃ، آیت: 11)
● عرشی نشتوں پر جگہ ہوتے ہوئے کسی آنے والے کو بیٹھنے نہیں دینا،
● صوفہ پر اس طرح براجمان ہونا کہ جگہ ہونے کے باوجود دوسرا نہ بیٹھ سکے،
● اور دوسرا بیٹھا ہو تو اٹھا دیا جائے،
● نیز جو بندہ پاؤں میں بیٹھے گرچہ محبت میں ہو اسے عرشی نشست پر جگہ خالی ہونے کے باوجود اوپر بیٹھنے کا حکم نہ دینا،
یہ سب تعلیمات نبویہ اوراسلاف و مشائخ کے معمولات کے خلاف ہے، مجلس کے آداب کے مطابق نہیں ہے،
بلکہ اگر آنے والا صاحب فضیلت ہو اور اس کے لیے جگہ نہ بنائی جائے تو طبیعت پر گراں گزرنا بھی سنتِ نبیﷺ کے مطابق ہے جیسا کہ بدری صحابہ والا واقعہ سطور بالا میں گزرا،
یاد رہے!!! تصوف میں انہی تعلیمات نبویہﷺ کو ہی عملاً سکھایا جاتا ہے، یہی تواضع، یہی انکساری، خود کو لاشے کے مرتبہ میں رکھنا ہی صوفیاء کی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے۔
کاش!! ہمارے اسٹیج جن سے ہم رسول اللہﷺ کی شان و عظمت کو بیان کرتے ہیں انہیں کو تعلیمات نبویہﷺ سے مزین کردیا کریں تو بیان سے زیادہ اسٹیج پر ہونے والا عمل عوام الناس کے مؤثر پیغام ہوگا۔